ابنا: امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی فروخت کے اعلان اور اس اقدام سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد چینی وزیر دفاع کا دورۂ امریکہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان بات چیت کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورۂ چین میں چینی حکام کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو فروغ دینے کی بات کی تھی۔ہلیری کلنٹن کی چینی حکام کے ساتھ ملاقات کے موقع پر امریکی وزیر خزانہ ٹیموتھی گائٹز نے بھی بیجنگ میں اقتصادی مذاکرات کا چوتھا دور شروع کیا۔ ایسے مذاکرات کہ جو چینی صدر کے بقول بےاعتمادی کی فضا میں شروع ہو رہے ہیں اور قدرتی طور پر اسی طرح بےنتیجہ رہیں گے۔بیجنگ کے نقطۂ نظر سے چین کے بارے میں امریکہ کے بیشتر اقدامات غلط ہیں اور یہ بےاعتمادی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ اس میں کوئي شک و شبہ نہیں ہے کہ امریکہ کے رویے کے بارے میں چینی صدر کے بیان کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور چین کے اختلافات بدستور حل طلب رہیں گے اور دونوں ملک تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد انہی اختلافات کا شکار ہیں۔ یہ اختلافات ایسے ہیں کہ چین کے دعوے کے مطابق جن کا سبب چین کے بارے میں امریکہ کی غلط پالیسیاں ہیں اور چین اس بات کا حق رکھتا ہے کہ ان کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہو۔امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت چین کے داخلی امور میں مداخلت سمجھی جاتی ہے اس کے علاوہ امریکہ کی جانب سے چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگانے سے بھی دونوں ملکوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں۔ اور حال ہی میں چینی حکومت کے ایک مخالف چن گوانگ چن کے امریکی سفارت خانے میں پناہ لینے سے ان اختلافات میں مزید شدت آ گئی ہے اور چین اسی وجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سے معافی مانگے۔واضح سی بات ہے کہ ایسے حالات میں کیا یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ چین اور امریکہ کے اقتصادی مذاکرات اور چینی اور امریکی وزرائے دفاع کے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ جائيں گے؟ کیونکہ اقتصادی شعبے میں امریکہ چین سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی یوان کی قدر میں اضافہ کرے البتہ امریکہ چین پر الزام لگا رہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر یوان کی قدر کم کر رکھی ہے تاکہ اس طرح وہ امریکہ کی پیداوار اور اقتصاد کو نقصان پہنچا سکے۔دفاعی لحاظ سے بھی چین اور امریکہ کے درمیان تعاون کے بارے میں مشکل سے ہی کوئی دستاویز پیش کی جا سکتی ہے کہ جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ دونوں ملک دفاعی تعاون کی سطح کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔چونکہ امریکہ چین کے مقابلے میں فلپائن کی فوجی اور دفاعی حمایت پر زور دیتا ہے تو قدرتی بات ہے کہ چین اور امریکہ کے دفاعی مذاکرات پر امریکہ کی اس پالیسی کا بھی اثر پڑے گا۔......./169
4 مئی 2012 - 19:30
News ID: 313073
ایک ایسے وقت میں کہ جب چین کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل ہوجن تاؤ امریکہ کے ساتھ بے اعتمادی پائی جانے کی بات کر رہے ہیں، چین کے وزیر دفاع لیانگ گوانگ لی امریکہ کے دورے پر گئے ہیں۔